30 July 2010

طوفانی خبریں

میانوالی اور نواحی علاقوں میں بارش سے چار افراد جاں بحق
میانوالی… میانوالی اور نواحی علاقوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 215 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جس سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ واں بھچراں کے قریب نہر ون آر میں 14 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ عیسیٰ خیل، کالا باغ اور موسیٰ خیل میں کئی دکانیں اور مکانات گر گئے جبکہ فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔مزید جانی اور مالی نقصان سے بچنے کیلئے دیہات میں لاؤڈاسپیکروں پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے اعلان کیے جا رہے ہیں
سندھ :چشمہ اور جناح بیراج میں سیلاب
کراچی: دریائے سندھ میں جناح اور چشمہ بیراج کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، ضلع میانوالی میں بارش کے دوران حادثات میں پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے۔ بارش کے پانی سے خوشاب اور راجن پور کے سو سے زائد دیہات زیر آب آ گئے۔ میانوالی شہر کو دریائے سند ھ سے محفوظ رکھنے والے بند بلو خیل میں شگاف پڑنے سے پانی میانوالی شہر میں داخل ہوگیا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہاہے۔

دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے بعد سیالکوٹ میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ ستاون ہزار ایک سو چھبیس کیوسک ہے۔ دریائے چناب کے کنارے ایبادیوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے ملتان کے نواحی علاقوں میں نچلے درجے کا سیلاب آ گیا ہے جس سے درجنوں بستیاں زیرآب آ گئی ہیں۔ گوجرانوالہ میں ہیڈ خانکی کے مقام پر پانی کی سطح کم ہوکر دو لاکھ تین ہزار کیوسک ہو چکی ہے۔

دریائے سندھ میں جناح اور چشمہ بیراج کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ضلع میانوالی میں کالا باغ کے مقام پر بارشوں سے متعدد مکانات گرگئے۔ مختلف دیہات میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے جبکہ دریائے کرم میں طغیانی سے تحصیل عیسیٰ خیل کے متعدد دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ لیہ میں بھی ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی حالات نافذ کر دیئے گئے ہیں۔ دریائے جہلم میں رسول بیراج کے قریبی دیہات میں وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ منگلا ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے جہلم میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔

خوشاب کے شہری علاقے اور تریسٹھ دیہات میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ضلع بھر میں سیلابی پانی سے گرنے والے مکانات کی تعداد سو ہو چکی ہے۔ ادھر کوہ سلیمان میں بارشوں کے بعد راجن پور کے دیہات سے اسی ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جبکہ علاقے کا زمینی رابطہ ایک مرتبہ پھر منقطع ہو گیا ہے۔

ننکانہ صاحب کے قریب نالہ ڈیک کے کنارے پر واقع گاؤں خیرپور بھٹیاں کی سینکڑوں ایکڑ اراضی نالے میں طغیانی آنے سے زیر آب آگئی ہے۔تونسہ شریف میں بھی بستی ڈکھہ، بستی کلاچی، یونین کونسل فتح خان سمیت متعدد مقامات میں ہزاروں افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔ سنگھڑ ندی سے ایک لاکھ کیوسک اور وسوا ندی سے پچہتر ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔
راجن پور:سیلاب نے تباہی مچا دی،4 جاں بحق:
لاہور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 جولائی۔2010ء) پنجاب میں میانوالی کے علاقوں میں موسلادھار بارش اور سیلاب کے نتیجے میں مختلف حادثات میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ راجن پور، روجھان اور تونسہ میں سیلابی ریلوں کے باعث درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں۔جبکہ دریائے جہلم میں طغیانی سے چھ دیہات زیرآب آگئے۔ میانوالی کے علاقوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں مکان کی چھت گرنے اور کرنٹ لگنے سے چار افراد جاں بحق اور اٹھارہ افراد زخمی ہوگئے۔ کالاباغ سے سیلابی ریلہ عیسیٰ خیل اور چھدرو کے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ نجی سیمنٹ فیکٹری میں پانی داخل ہونے سے پلانٹ کو بند کردیا گیا۔ دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر چھ لاکھ ساٹھ ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے۔ اور پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں بستی نتکانی، موضع درخواست جمال خان میں سیلابی ریلہ داخل ہونے سے سیکڑوں افراد متاثر ہوئے۔ تحصیل روجھان میں سیلابی ریلے کے باعث چالیس دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ متعدد دیہات کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر سات لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ گزرے گا، جس سے کچے کے علاقوں اور ملحقہ آبادیوں میں نقصان کا خطرہ ہے۔ روجھان کے علاقوں میں مختلف پہاڑی سیلابی ریلوں کے علاوہ دریائے سندھ کا کٹاو بھی شروع ہوگیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں اعلان کرکے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی جارہی ہے۔ ادھر دریائے جہلم میں طغیانی سے وچلا بیلا سمیت آٹھ دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں چار ہزار افراد پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے دو کشتیاں کام کر رہی ہیں۔ جبکہ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو نے راولپنڈی سے مزید کشتیاں طلب کرلی ہیں۔ ادھر خوشاب میں پہاڑی ندی نالوں نے دامن پہاڑ کے درجنوں دیہات میں تباہی مچادی جس سے سینکڑوں لوگ بے گھر اور متعدد مویشی ہلاک ہوگئے۔
خیبر پختونخوا، بارش اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، 230 افراد جاں بحق،خیبر پختونخواہ کو پہلے دہشتگردوں نے تباہ کر دیا جو بچا تھا وہ سیلاب کی نذر ہو گیا، افتخار حسین،رابطہ پل اور سڑکیں ٹوٹنے سے 4لاکھ کے قریب افراد متاثرہ علاقوں میں پھنس گئے ، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ، صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی،وفاقی حکومت اور عوام مدد کریں،وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ کی پریس کانفرنس:
پشاور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 جولائی۔2010ء)خیبر پختونخوا میں بارش اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ، دو سو تیس افراد جاں بحق ہوگئے جس میں سوات ،شانگلہ اور کوہستان میں سیلاب سے جاں بحق ہونے والے ایک سو اسی افراد بھی شامل ہیں ۔ سیلاب متاثرین کی منتقلی کیلئے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ تین چینی ماہرین سمیت متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔سوات کے علاوہ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی بارش اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں مزید پچیس افراد ہلاک ہوگئے،مختلف علاقوں میں ہزاروں گھر اور متعدد رابطہ پل بہہ گئے۔ صوبے میں مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہے۔پشاور میں بارش سے مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور خراب موسم کے باعث پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ شہر کا ملک کے دوسرے علاقوں سے ٹرین رابطہ بھی معطل ہے۔ مختلف علاقوں میں کئی گھنٹوں سے بجلی غائب ہے اور موبائل فون سروس متاثر ہے۔چارسدہ میں دو بچوں سمیت دس افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سیلاب سے سینکڑوں مکانات بہہ گئے۔ مانسہرہ میں شدید بارش کے باعث مختلف حادثات میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ بجلی اور ٹیلی مواصلات کی سہولتیں معطل ہیں۔ نوشہرہ میں کرنٹ لگنے سے تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ ہنگو کے علاقے لختی بانڈہ میں سیلاب سے تین بچے بہہ گئے۔کوہاٹ میں جرمہ پل گرنے سے آٹھ افراد ملبے تلے دب گئے۔ گمبٹ میں بیس گھر منہدم ہوگئے جبکہ دو خواتین اور دو بچے سیلاب میں بہہ گئے۔ سیلابی ریلے کے باعث کنڈیالی بند ٹوٹنے کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے قریبی علاقے خالی کرالیے گئے۔ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ایف آر درہ زندہ میں مکان کی چھت گرنے سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ دیر لوئر کے علاقے چکدرہ میں آبی ریلے کے باعث سرکاری ریسٹ ہاوس میں ایک سو دو اور مندرہ ہیڈ ورسک میں اسی افراد پھنس گئے۔ سیلابی ریلے کے باعث متعدد رابطہ پل بھی بہہ گئے۔خال میں چار افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔کرک اور ملحقہ علاقوں میں بارش سے درجنوں مکانات منہدم ہوچکے ہیں۔ چوبیس گھنٹے کے دوران حادثات میں پانچ افراد جاں بحق ہوگئے۔ ٹانک میں زام کے قریب سیلابی ریلے سے میاں بیوی کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایبٹ ایباد میں بارش کے باعث مکان گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔پٹن ٹنل میں طغیانی سے متعدد چینی ماہرین اور ایف سی اہلکار لاپتہ ہوگئے تھے۔ کمشنر صاحبزادہ انیس کے مطابق پٹن میں پچپن چینی ماہرین موجود تھے جس میں سے باون ماہرین کو نکال لیا گیا اور دیگر تین ماہرین کو بھی جلد نکال لیا جائے گا۔ دوبیر میں سو سے زائد افراد لاپتہ ہیں جبکہ بار ش او ر سیلاب کے باعث مختلف مقامات پر چونتیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں طوفانی بارشوں کے باعث 60سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، رابطہ پل اور سڑکیں ٹوٹنے سے 4لاکھ کے قریب افراد متاثرہ علاقوں میں پھنس گئے ، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ، صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی،متاثرین کوخیمے ، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ، وفاقی حکومت اور عوام مدد کریں، خیبرپختونخواہ کو پہلے دہشت گردوں نے تباہ کردیا جو بچا تھا وہ سیلاب کی نذر ہو گیا ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت پورے صوبے کو طوفانی بارشوں اور سیلاب نے گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ضلع شانگلہ میں 22افراد جاں بحق اور 30زخمی ہو گئے جبکہ درجنوں مکانات منہدم ہو گئے ۔ انفراسٹرکچر کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے ۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں ۔ سوات اور دیر میں بھی بارشوں نے تباہی مچادی ہے ، دریائے سوات پر رابطہ پل سیلاب میں بہہ چکے ہیں۔ اپر دیر میں 10افراد جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے ۔ ترنگل میں بے نظیربھٹو یونیورسٹی کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوشہرہ اور پبی میں متعدد دیہات میں پانی گھس جانے سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے تمام راستے بند ہو گئے ہیں نوشہرہ میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ساٹھ لاکھ روپے فراہم کردیئے گئے ہیں جن کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ بٹگرام کی تحصیل الائی میں 6افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دو مین سڑکوں سمیت تمام رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں۔ سی اینڈ ڈبلیو کا ریسٹ ہاؤس بھی پانی سے بہہ گیا ۔ چھوٹے بڑے رابطہ پل بھی سیلاب کی نذر ہو گئی۔ الائی کے تین دیہاتوں کو شدید خطرہ ہے ، پانی بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شدید بارش اور سیلاب ایک آفت اور قومی المیہ ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ یہ عوام کے جان و مال کو محفوظ بنایا جاسکے۔ خیبرپختونخواہ کو پہلے دہشت گردوں نے تباہ کردیا تھا جو کچھ بچا تھا وہ سیلاب کی نذر ہو گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کی مخیر حضرات اور چاروں صوبوں کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف پہنچانے کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرکے تمام اراکین اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کی مدد کیلئے کام کریں۔ وزیراعلیٰ امیر حیدرہوتی نے کشتیوں کی خریداری کیلئے رقم فراہم کردی ہے۔ یہ کشتیاں کراچی سے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے منگوانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے ۔ متاثرین کوخیمے ، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور اس مقصد کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں ہماری تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے اپیل ہے کہ متاثرین سیلاب کوبچانے کیلئے ہر مسئلہ کو اولین ترجیح دی جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مجموعی طورپر ساٹھ کے قریب ہلاکتوں کی اطلاع ہے جبکہ رابطہ سڑکیں اور پل ٹوٹنے سے چار لاکھ کے قریب متاثرہ علاقوں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

No comments:

Post a Comment