31 May 2009

سنگلاخ چٹانیں سرہانے

توحید سے مالا مل ہیں جو وہ باطل سے کب ڈرتے ہیں
جو پیرو کار صحابہ کے وہ دنیا پر کب مرتے ہیں
حالات رکاوٹ بنتے ہیں نہ سرد و گرم یہ ہایل ہے
نہ ہایل بستر مخمل کے آرام پے نہ یہ مایل ہے
سنگلاخ چٹانیں سرہانے کب عیش گوارہ کرتے ہیں
نہ عیش گوارہ کرتے ہیں
توحید سے مالا مل ہیں جو وہ باطل سے کب ڈرتے ہیں
جو پیرو کار صحابہ کے وہ دنیا پر کب مرتے ہین
افغانستان کی دھرتی ہو یا چیچینیا کے میدان ہوں
کشمیر عراق فلسطین ہو یا بوسینا کے زنداں ہو
یہ زندہ مقتل زنجیریں ان سے ایمان سورتے ہیں
ان سے ایمان سورتے ہیں
توحید سے مالا مل ہیں جو وہ باطل سے کب ڈرتے ہیں
جو پیرو کار صحابہ کے وہ دنیا پر کب مرتے ہیں
یہ گلشن میں ہیں پھول سبھی اور مقتل میں ہیں تلواریں
اسلام اگر اک قلعہ ہے تو یہ قلعے کی دیواریں
اسلام کی عظمت کی خاطر تن من دھن وارا کرتے ہیں
تن من دھن وارا کرتے ہیں
توحید سے مالا مل ہیں جو وہ باطل سے کب ڈرتے ہیں
جو پیرو کار صحابہ کے وہ دنیا پر کب مرتے ہیں

No comments:

Post a Comment