03 June 2009

حقیقت ہے بجز تیرے نہ کوی یار

حقیقت ہے بجز تیرے نہ کوی یار یا اللہ
تیرے قبضہ میں بندوں کا ہر کار یا اللہ
تو ہی اکبر تو ہی سرور تو ہی مالک محشر
تو ہی حافظ تو ہی ناصر تو ہی غفار یا اللہ
کریم و خالق و دائم مجیب مالک و قائم
تو ہی رازق و راحم تو ہی ستّار یا اللہ
زمین و آسمان بحر و طوفان ہیں سب ہی تیرے
تیرے ہی امر سے ہوتی ے ناؤ پار یا اللہ
جھکا غیروں کی درگاہوں پر لیکن یاس ہی پای
نہ کوئ بندہ پرور ہے نہ ہے غم خوار ہے یا اللہ
صنم مجبور ہی پاے مزاریں بند ہی دیکھیں
کھلا پایا تو مضطر نے تیرا دربار یا اللہ
بٹھا دے میرے دل میں یوں تصور ذات اپنی کا
نکلنےہی نہ پاے کبھی جمال یا اللہ
ہدایت تو نے ہی بخشی ہدایت پر ہی قائم رکھ
رہے بندہ یہ کفر و شرک سے بے زار یا اللہ

No comments:

Post a Comment