حقیقت ہے بجز تیرے نہ کوی یار یا اللہ
تیرے قبضہ میں بندوں کا ہر کار یا اللہ
تو ہی اکبر تو ہی سرور تو ہی مالک محشر
تو ہی حافظ تو ہی ناصر تو ہی غفار یا اللہ
کریم و خالق و دائم مجیب مالک و قائم
تو ہی رازق و راحم تو ہی ستّار یا اللہ
زمین و آسمان بحر و طوفان ہیں سب ہی تیرے
تیرے ہی امر سے ہوتی ے ناؤ پار یا اللہ
جھکا غیروں کی درگاہوں پر لیکن یاس ہی پای
نہ کوئ بندہ پرور ہے نہ ہے غم خوار ہے یا اللہ
صنم مجبور ہی پاے مزاریں بند ہی دیکھیں
کھلا پایا تو مضطر نے تیرا دربار یا اللہ
بٹھا دے میرے دل میں یوں تصور ذات اپنی کا
نکلنےہی نہ پاے کبھی جمال یا اللہ
ہدایت تو نے ہی بخشی ہدایت پر ہی قائم رکھ
رہے بندہ یہ کفر و شرک سے بے زار یا اللہ
تیرے قبضہ میں بندوں کا ہر کار یا اللہ
تو ہی اکبر تو ہی سرور تو ہی مالک محشر
تو ہی حافظ تو ہی ناصر تو ہی غفار یا اللہ
کریم و خالق و دائم مجیب مالک و قائم
تو ہی رازق و راحم تو ہی ستّار یا اللہ
زمین و آسمان بحر و طوفان ہیں سب ہی تیرے
تیرے ہی امر سے ہوتی ے ناؤ پار یا اللہ
جھکا غیروں کی درگاہوں پر لیکن یاس ہی پای
نہ کوئ بندہ پرور ہے نہ ہے غم خوار ہے یا اللہ
صنم مجبور ہی پاے مزاریں بند ہی دیکھیں
کھلا پایا تو مضطر نے تیرا دربار یا اللہ
بٹھا دے میرے دل میں یوں تصور ذات اپنی کا
نکلنےہی نہ پاے کبھی جمال یا اللہ
ہدایت تو نے ہی بخشی ہدایت پر ہی قائم رکھ
رہے بندہ یہ کفر و شرک سے بے زار یا اللہ

No comments:
Post a Comment