اسلام علیکم
اہل حق اہل سنت والجماعت احناف دیوبند فورم کو میں اوپن نہیں کر پا رہا اہل باصل نے یا تو ان پر وایرس حملہ کر دیا جو یہ بند ہے یا کوئی اور وجہ کہیں ان کا ویب اڈریس بدل تو نہیں بدل گیا
کسی کو معلوم ہو تو بتا دے شکریہ
10 October 2011
08 July 2011
فرقہ واریت کے جال
قطعی بات ہے کہ
٧٣ فرقے بنیں گے
جن میں ایک حق پر ہو گا
سارے جہنم میں جائیں گے سواۓ ایک کے جو حق پر ہو گا
حق پر وہ ہو گا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریقہ پر ہو گا۔
گمراہ فرقے ہمیشہ کے لیے جہنمی نہیں بلکہ اپنے عقائید موافق سزا بھگت کر جنت میں جائیں گے۔
کچھ فرقے فرقہ بندی میں اس حد تک پہنچے کہ انہوں نے فریق مخالف پر کفر کے فتوے اور “کافروں سے بھی بڑھ“ کر کے فتوے لگا دیے۔ کوئی فرقہ ایسا بنا کہ جسے نے دوسروں پر مشرک کا فتوی لگا دیا۔اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے لیے بدعتی اور گستاخ کے الفاظ بھی استعمال کیے گۓ۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نہ ہم سنی نہ ہم وہابی۔ کچھ کا کہنا ہے نہ ہم بریلوی نہ دیوبندی نہ اہلحدیث۔ایسے لوگ بھی ہوں گے جو حق کو پہچان چکے۔ایسے لوگ بھی ہیں جو شعیہ اور روافض کو اہل حق سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ایک فریق کی ہی بات کو سنا اور اسے ہی حق پر سمجھے بیٹھے ہیں۔
ایک فرقہ کہتا ہے صرف قرآن پڑھو حدیث کی کوئی ضرورت نہیں ایسا بھی ہے جو کہتا ہے قرآن حدیث پڑھو فقہ اور اجماع کی ضرورت نہیں۔ایک فرقہ زیادہ علم حاصل کرنے کو ہی برا سمجھتا ہے۔ایک فرقہ کہتا ہے کونسا عشق کیسا عشق یہ سب ڈرامے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جنہوں نے حب رسول کا نام لے کر اپنے فرقہ کی بنیاد رکھی ایسے بھی ہیں جو اہل بیت سے محبت کا نام لے کر فرقہ واریت پھیلاتے ہیں۔
قصہ مختصر جو فرقہ حق پر ہے بریلوی دیوبندی اہلحدیث یا کوئی اور ۔ ۔ ۔ وہ تو حق کی ہی دعوت دیتا ہے البتہ جو باطل فرقے ہیں ان کی دعوت گمراہی ہی کی جانب ہوتی ہے۔ یہ گمراہ فرقے اپنے جال میں کیسے پھانستے ہیں اس پر ہی ہماری گفتگو ہے۔
پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ساتھ ساتھ کوئی انفرادی طور پر اپنے خیلات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔اسلامی میگزین اخبارات کتب پرنٹ میڈیا میں انٹرنیٹ سی ڈیزی ٹی وی چینل کیسٹ وغیرہ الیکٹرانک میڈیا میں اور میلاد جلسہ محفل کانفرنس اور خطبہ جمعہ کے عنوان سے عوامی اسلامی اور ‘اصلاحی‘ اجتماعات میں سب ایک جیسے نہیں لیکن کچھ انہی ذراع سے فرقہ واریت پھیلاتے ہیں۔
فرقہ واریت کا رونا رو کر اپنے فرقہ کی دعوت دینا کسی پر براہ راست تنقید کرنا ایک اجھے انداز کے میگزیں مین تھوڑی تھوڑی اپنے فرقہ کی دعوت اور زہن سازی کرنا اور کس کا بھرپور انداز میں اختلافی مسائل پر باتیں کرنا۔
ایک میگزین ایسے بھی اپنے جال میں پھنسا سکتا ہے کہ وہ لکھتے ہیں ہمرا کس بھی فرقہ سے تعلق نہیں لیکن ان کا تعلق کسی نا کسی سے ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ کوئی فرقہ واریت کا رونا رو کر کوئی اختلافی مسائل سنا کر کوئی محبت کا لیبل لگا کر اپنے فرقہ کی دعوت دیتا ہے۔
اللہ کرے ہم سب مسلمانوں سے محبت کریں۔ حق کو پہچانیں اور باطل سے بچیں اور اپنی عملی زندگی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریقہ پر گزاریں آمین
٧٣ فرقے بنیں گے
جن میں ایک حق پر ہو گا
سارے جہنم میں جائیں گے سواۓ ایک کے جو حق پر ہو گا
حق پر وہ ہو گا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریقہ پر ہو گا۔
گمراہ فرقے ہمیشہ کے لیے جہنمی نہیں بلکہ اپنے عقائید موافق سزا بھگت کر جنت میں جائیں گے۔
کچھ فرقے فرقہ بندی میں اس حد تک پہنچے کہ انہوں نے فریق مخالف پر کفر کے فتوے اور “کافروں سے بھی بڑھ“ کر کے فتوے لگا دیے۔ کوئی فرقہ ایسا بنا کہ جسے نے دوسروں پر مشرک کا فتوی لگا دیا۔اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے لیے بدعتی اور گستاخ کے الفاظ بھی استعمال کیے گۓ۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نہ ہم سنی نہ ہم وہابی۔ کچھ کا کہنا ہے نہ ہم بریلوی نہ دیوبندی نہ اہلحدیث۔ایسے لوگ بھی ہوں گے جو حق کو پہچان چکے۔ایسے لوگ بھی ہیں جو شعیہ اور روافض کو اہل حق سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ایک فریق کی ہی بات کو سنا اور اسے ہی حق پر سمجھے بیٹھے ہیں۔
ایک فرقہ کہتا ہے صرف قرآن پڑھو حدیث کی کوئی ضرورت نہیں ایسا بھی ہے جو کہتا ہے قرآن حدیث پڑھو فقہ اور اجماع کی ضرورت نہیں۔ایک فرقہ زیادہ علم حاصل کرنے کو ہی برا سمجھتا ہے۔ایک فرقہ کہتا ہے کونسا عشق کیسا عشق یہ سب ڈرامے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جنہوں نے حب رسول کا نام لے کر اپنے فرقہ کی بنیاد رکھی ایسے بھی ہیں جو اہل بیت سے محبت کا نام لے کر فرقہ واریت پھیلاتے ہیں۔
قصہ مختصر جو فرقہ حق پر ہے بریلوی دیوبندی اہلحدیث یا کوئی اور ۔ ۔ ۔ وہ تو حق کی ہی دعوت دیتا ہے البتہ جو باطل فرقے ہیں ان کی دعوت گمراہی ہی کی جانب ہوتی ہے۔ یہ گمراہ فرقے اپنے جال میں کیسے پھانستے ہیں اس پر ہی ہماری گفتگو ہے۔
پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ساتھ ساتھ کوئی انفرادی طور پر اپنے خیلات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔اسلامی میگزین اخبارات کتب پرنٹ میڈیا میں انٹرنیٹ سی ڈیزی ٹی وی چینل کیسٹ وغیرہ الیکٹرانک میڈیا میں اور میلاد جلسہ محفل کانفرنس اور خطبہ جمعہ کے عنوان سے عوامی اسلامی اور ‘اصلاحی‘ اجتماعات میں سب ایک جیسے نہیں لیکن کچھ انہی ذراع سے فرقہ واریت پھیلاتے ہیں۔
فرقہ واریت کا رونا رو کر اپنے فرقہ کی دعوت دینا کسی پر براہ راست تنقید کرنا ایک اجھے انداز کے میگزیں مین تھوڑی تھوڑی اپنے فرقہ کی دعوت اور زہن سازی کرنا اور کس کا بھرپور انداز میں اختلافی مسائل پر باتیں کرنا۔
ایک میگزین ایسے بھی اپنے جال میں پھنسا سکتا ہے کہ وہ لکھتے ہیں ہمرا کس بھی فرقہ سے تعلق نہیں لیکن ان کا تعلق کسی نا کسی سے ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ کوئی فرقہ واریت کا رونا رو کر کوئی اختلافی مسائل سنا کر کوئی محبت کا لیبل لگا کر اپنے فرقہ کی دعوت دیتا ہے۔
اللہ کرے ہم سب مسلمانوں سے محبت کریں۔ حق کو پہچانیں اور باطل سے بچیں اور اپنی عملی زندگی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریقہ پر گزاریں آمین
فرقہ ضالہ ناری ابدی نہیں ہوں گے
فرقہ ضالہ ناری ابدی نہیں ہوں گے چنانچہ
علامہ سندھی حاشیہ ابن ماجہ پر لکھتے ہیں:
"ان کے حق میں خلود فی النار لینا اجماع کے خلاف ہے چونکہ اہل ایمان کو خلود نار نہیں"۔
مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر نہایت واضع اور مفصل کلام کرتے ہوۓ لکھا ہے،
“جاننا چاہیے کہ آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث تفریق امت میں کلہم فی النار الا واحدا فرمایا ہے اس میں ان ٧٢ فرقوں کا آتش جہنم میں ہونا اور عزاب میں رہنا مراد ہے خلود و دوام عزاب مراد نہیں اس لیےکہ خلود و دوام منافی ایمان اور مخصوص بہ کفار ہیں زیادہ سے زیادہ یہ بات ہے کہ چونکہ ان کے اعتقاد ہاۓ مزمومہ ان کے دخول نار کا سبب ہیں ناچار وہ سب کے سب داخل نار ہو کر اپنے خباثت اعتقاد کے بقدر معزب ہوں گے۔“ (مکتوبات ص ٣٨ دفتر سوم)
اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرماۓ۔آمین!
علامہ سندھی حاشیہ ابن ماجہ پر لکھتے ہیں:
"ان کے حق میں خلود فی النار لینا اجماع کے خلاف ہے چونکہ اہل ایمان کو خلود نار نہیں"۔
مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر نہایت واضع اور مفصل کلام کرتے ہوۓ لکھا ہے،
“جاننا چاہیے کہ آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث تفریق امت میں کلہم فی النار الا واحدا فرمایا ہے اس میں ان ٧٢ فرقوں کا آتش جہنم میں ہونا اور عزاب میں رہنا مراد ہے خلود و دوام عزاب مراد نہیں اس لیےکہ خلود و دوام منافی ایمان اور مخصوص بہ کفار ہیں زیادہ سے زیادہ یہ بات ہے کہ چونکہ ان کے اعتقاد ہاۓ مزمومہ ان کے دخول نار کا سبب ہیں ناچار وہ سب کے سب داخل نار ہو کر اپنے خباثت اعتقاد کے بقدر معزب ہوں گے۔“ (مکتوبات ص ٣٨ دفتر سوم)
اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرماۓ۔آمین!
مسجد اور جماعت
کافی عرصہ پہلے ایک بھائی سے یہ واقعہ سنا جو میں اب لکھنے جا رہا ہوں۔ کمی بیشی اللہ معاف فرمائیں۔ ان ہی کی زبانی پڑھیے ۔ ۔ ۔
تبلیغی سفر میں ہماری تشکیل جس علاقے میں ہوئی وہاں راستے میں ایک ویران مسجد تھی۔ ہم وہاں ٹھہرے ضصفائی کی اتنے میں کچھ لوگ بھاگے بھاگے آۓ انہوں نے کہاں اس مسجد میں نہ ٹھہرنا ان کا کہنا تھا کہ اس مسجد میں جن رہتے ہیں۔
خیر ہم وہاں سے نہ گۓ۔ رات ہم نے وہاں رونے کی آوازیں سنیں۔ ہمارے امیر صاحب اٹھے اور محراب کے قریب گۓ جہاں سے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔ انہوں نے فرش کو کان لگایا تو آواز سنی جنہوں نے مجھے ویران کیا ان کے گھر بھی ویران ہوں۔
ہم روتے رہے استغفار کرتے رہے۔
ہم نے وہاں اللہ کی توفیق سے خوب دین کی محنت کی پھر جب وہاں لوگ جماعت کی نماز کی جانب متوجہ ہوۓ مسجد میں آنے لگے تو ہماری واپسی ہوئی۔
تبلیغی سفر میں ہماری تشکیل جس علاقے میں ہوئی وہاں راستے میں ایک ویران مسجد تھی۔ ہم وہاں ٹھہرے ضصفائی کی اتنے میں کچھ لوگ بھاگے بھاگے آۓ انہوں نے کہاں اس مسجد میں نہ ٹھہرنا ان کا کہنا تھا کہ اس مسجد میں جن رہتے ہیں۔
خیر ہم وہاں سے نہ گۓ۔ رات ہم نے وہاں رونے کی آوازیں سنیں۔ ہمارے امیر صاحب اٹھے اور محراب کے قریب گۓ جہاں سے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔ انہوں نے فرش کو کان لگایا تو آواز سنی جنہوں نے مجھے ویران کیا ان کے گھر بھی ویران ہوں۔
ہم روتے رہے استغفار کرتے رہے۔
ہم نے وہاں اللہ کی توفیق سے خوب دین کی محنت کی پھر جب وہاں لوگ جماعت کی نماز کی جانب متوجہ ہوۓ مسجد میں آنے لگے تو ہماری واپسی ہوئی۔
فرقہ بندی کی شدت میں کمی کیسے؟
حدیث پاک سے یہ بات ثابت ہے کہ “ہماری امت بھی ٧٣ فرقوں میں بٹ جاۓ گی“ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائیش نہیں۔ ہم جو بھی کر لیں یہ فرقوں میں بٹ جانا ختم نہیں ہو سکتا۔ ہاں البتہ اتنا ضرور ہے کہ فرقہ واریت کی شدت میں کمی آ جاۓ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو کافر نہیں کہنا چاہیے ورنہ جس کو کافر کہا وہ ایسا نہ ہوا تو یہ کفر کہنے والے کی جانب ہی لوٹے گا۔ یہ بات حدیث سے ثابت ہے۔
دوسری بات جو باطل فرقے سوء اعتقاد اور فساد عقیدہ کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے ان کا یہ جہنم میں جانا ہمیشہ کے لیے نہیں ہو گا۔ علماء امت کی کتب سے یہ بات واضع ہے۔
تیسری بات حصول جنت کے لیے عقائید کے ساتھ ساتھ اعمال کا ٹھیک ہونا بھی ضروری ہے۔
عام طور پر بات اتنی بڑی نہیں ہوتی جتنی ہم خیال کر بیٹھتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ فلاں فرقہ والوں کو حلوا کھانے سے ہی فرصت نہیں اور فلاں فرقہ امریکا سے امداد لیتا ہے یا فلاں کو سعودیہ سے ڈالر ملتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں سب ایک جیسے نہیں اور اگر کوئی ایسے ہیں بھی تو قلیل تعداد میں۔ چند ایک اگر ایک گروہ میں ہوں تو ان کی وجہ سے سارے گروہ پر ایسا الزام درست نہیں۔
بعض اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ کسی ایک گروہ سے اپنا تعلق بتانے والا کوئی جرم کر بیٹھتا ہے کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو تمام گروہ کو اس کی وجہ سے غلط سمجھ لیا جانا یہ بھی درست نہیں۔
ہم سب مسلمان بھائی بھائی ہیں ایک جسم کی مانند آپس میں محبت الفت رکھنے والے اگر کسی بھائی کو تکلیف ہو تو اس کا درد رکھنے والے۔
ایک ادنی سے مسلمان کی بھی اللہ کے ہاں بہت قدر ہے ایک کافر فلاحی اور اچھے کام کرنے والا غریبوں کا ھمدرد مریضوں کے دکھ میں شریک جو ہر کرسمس پر غرباء میں مفت کپڑے بھی تقسیم کرتا ہے اس سے بھی ایک غریب مسلمان افضل ہے۔ بلکہ کافر اور مسلم برابر ہو ہی نہیں سکتے۔
اللہ پاک کا فرمان کا مفہوم ہے
ایمان والے بھائی بھائی ہیں۔
نہ مردوں کو مردوں پر نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے (یعنی جس سے دوسرے کی تحقیر ہو)۔
نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔
بہت گمانوں سے بچو کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے
مسلمان کو بلا وجہ برا بھلا کہنا بڑا گناہ ہے۔(بخاری و مسلم)۔
جب کوئی شخص (لوگوں کے عیوب پر نظر کر کے اور اپنے کو عیوب سے بری سمجھ کر بطور شکایت) یوں کہے کہ لوگ برباد ہو گے تو یہ شخص سب سے زیادہ برباد ہونے والا ہے۔(کہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتا ہے۔(مسلم)۔
میرا یہی پیغام ہے کہ ہم ہر قسم کے تعصب کو دور کرتے ہوۓ ایک دوسرے کی قدر کریں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین!
پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو کافر نہیں کہنا چاہیے ورنہ جس کو کافر کہا وہ ایسا نہ ہوا تو یہ کفر کہنے والے کی جانب ہی لوٹے گا۔ یہ بات حدیث سے ثابت ہے۔
دوسری بات جو باطل فرقے سوء اعتقاد اور فساد عقیدہ کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے ان کا یہ جہنم میں جانا ہمیشہ کے لیے نہیں ہو گا۔ علماء امت کی کتب سے یہ بات واضع ہے۔
تیسری بات حصول جنت کے لیے عقائید کے ساتھ ساتھ اعمال کا ٹھیک ہونا بھی ضروری ہے۔
عام طور پر بات اتنی بڑی نہیں ہوتی جتنی ہم خیال کر بیٹھتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ فلاں فرقہ والوں کو حلوا کھانے سے ہی فرصت نہیں اور فلاں فرقہ امریکا سے امداد لیتا ہے یا فلاں کو سعودیہ سے ڈالر ملتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں سب ایک جیسے نہیں اور اگر کوئی ایسے ہیں بھی تو قلیل تعداد میں۔ چند ایک اگر ایک گروہ میں ہوں تو ان کی وجہ سے سارے گروہ پر ایسا الزام درست نہیں۔
بعض اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ کسی ایک گروہ سے اپنا تعلق بتانے والا کوئی جرم کر بیٹھتا ہے کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو تمام گروہ کو اس کی وجہ سے غلط سمجھ لیا جانا یہ بھی درست نہیں۔
ہم سب مسلمان بھائی بھائی ہیں ایک جسم کی مانند آپس میں محبت الفت رکھنے والے اگر کسی بھائی کو تکلیف ہو تو اس کا درد رکھنے والے۔
ایک ادنی سے مسلمان کی بھی اللہ کے ہاں بہت قدر ہے ایک کافر فلاحی اور اچھے کام کرنے والا غریبوں کا ھمدرد مریضوں کے دکھ میں شریک جو ہر کرسمس پر غرباء میں مفت کپڑے بھی تقسیم کرتا ہے اس سے بھی ایک غریب مسلمان افضل ہے۔ بلکہ کافر اور مسلم برابر ہو ہی نہیں سکتے۔
اللہ پاک کا فرمان کا مفہوم ہے
ایمان والے بھائی بھائی ہیں۔
نہ مردوں کو مردوں پر نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے (یعنی جس سے دوسرے کی تحقیر ہو)۔
نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔
بہت گمانوں سے بچو کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے
مسلمان کو بلا وجہ برا بھلا کہنا بڑا گناہ ہے۔(بخاری و مسلم)۔
جب کوئی شخص (لوگوں کے عیوب پر نظر کر کے اور اپنے کو عیوب سے بری سمجھ کر بطور شکایت) یوں کہے کہ لوگ برباد ہو گے تو یہ شخص سب سے زیادہ برباد ہونے والا ہے۔(کہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتا ہے۔(مسلم)۔
میرا یہی پیغام ہے کہ ہم ہر قسم کے تعصب کو دور کرتے ہوۓ ایک دوسرے کی قدر کریں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین!
ختم نبوت
ہر مرزائی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور گستاخی میں سلمان رشدی (ملعون) ہے۔ (سپریم کورٹ پاکستان ١٩٩٣ء)
خوش بخت اور سعادت مند انسانوں کو قدرت ختم نبوت کے کام کے لیے قبول فرماتی ہے۔(مولانا عمر پالنپوری رحمہ اللہ)
مرزائیوں کی طرف داری کرنا یا ختم نبوت کے کام سے روکنا اپنی قبر کو جہنم کا گڑھا بنانا ہے۔(شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ )
فتنہ مرزایت کے خلاف کام کرنے والے کی پشت پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہوتا ہے۔ (پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ)
ختم نبوت کے کام کا بدلہ جنت ہے اور میں اس بدلے کا ضامن ہوں۔(محدث عظیم مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ)
خوش بخت اور سعادت مند انسانوں کو قدرت ختم نبوت کے کام کے لیے قبول فرماتی ہے۔(مولانا عمر پالنپوری رحمہ اللہ)
مرزائیوں کی طرف داری کرنا یا ختم نبوت کے کام سے روکنا اپنی قبر کو جہنم کا گڑھا بنانا ہے۔(شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ )
فتنہ مرزایت کے خلاف کام کرنے والے کی پشت پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہوتا ہے۔ (پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ)
ختم نبوت کے کام کا بدلہ جنت ہے اور میں اس بدلے کا ضامن ہوں۔(محدث عظیم مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ)
مکمل نماز ثابت کرنے سے فرار؟
محلے میں کریانہ کی دوکان پر ایک شخص تشریف لاۓ۔ انہوں نے وہاں بات چلائی کہ ہماری نماز قرآن حدیث سے ثابت ہے۔انہوں نے کہا اگر ہم اپنی نماز قرآن حدیث سے ثابت نہ کر سکے تو ایک لاکھ انعام دیں گے۔وہ یہ تحریر لکھ کر دے گۓ۔
چند ہی دن بعد غیر مقلد حضرات تشریف لے آۓ۔انہوں نے کہا کہ یہ تحریر ایک عام آدمی کی ہے ۔ ۔ ۔ تو انہیں کہا گیا اچھا جی آپ تحریر لکھ دیں ۔ ۔ ۔ اور ہاں اگر آپ نے اپنی مکمل نماز قرآن حديث سے ثابت کر دی تو ہم بھی آپ جیسی نماز پڑھنے لگیں گے۔ اب تحریر لکھی جانے لگی ۔
غیر مقلد اپنی تمام نماز اور احکام ۔ ۔ ۔
غیر مقلدین بھائیوں! نے کہا کونسے احکام کیسے احکام ہم تو نہیں مانتے ہم تو بس سیدھی سادھی نماز پڑھتے ہیں۔ ان حضرات کو وہ نماز کی کتاب دکھائی گئی جو پہلے دعوی کرنے والا شخص دے گیا تھا کتاب میں نماز جنازہ کے ساتھ اس کے احکام لکھے گۓ تھے۔
اب تحریر آگے لکھی جانے لگی۔
غیر مقلد اپنی تمام نماز اور احکام قرآن و حدیث سے ۔ ۔ ۔ ۔
اب غیر مقلدین نے کہا اجماع اور قیاس بھی لکھو ۔انہیں کہا گیا آپ تو صرف قرآن حدیث کی بات کر رہے تھے کہنے لگے ہم وہی اجماع مانتے ہیں جو قرآن حدیث کے خلاف نہ ہو۔انہیں کہا گیا کوئی اجماع قرآن حدیٹ کے خلاف ہوا ہے؟۔اگر ہوا ہے تو کسی ایک کی مثال دیں۔
اچھا خیر تحریر لکھی گئی ۔ اب مناظرے کی جگہ کا تعین کرنا تھا ۔ انہوں نے جس دن جگہ دیکھنے آنا تھا اس دن نہ آۓ ۔ فون آیا کہ میں مصروف ہوں آج نہیں آ سکتا کل آوں گا۔ اب کتنے ہی دن بیت گۓ کوئی غیر مقلد نہیں آیا۔
مجھے امید ہے غیر مقلد بھائی اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر حق بات سمجھنے حق تک پہچنے کے لیے ضرور تشریف لائیں گے۔
چند ہی دن بعد غیر مقلد حضرات تشریف لے آۓ۔انہوں نے کہا کہ یہ تحریر ایک عام آدمی کی ہے ۔ ۔ ۔ تو انہیں کہا گیا اچھا جی آپ تحریر لکھ دیں ۔ ۔ ۔ اور ہاں اگر آپ نے اپنی مکمل نماز قرآن حديث سے ثابت کر دی تو ہم بھی آپ جیسی نماز پڑھنے لگیں گے۔ اب تحریر لکھی جانے لگی ۔
غیر مقلد اپنی تمام نماز اور احکام ۔ ۔ ۔
غیر مقلدین بھائیوں! نے کہا کونسے احکام کیسے احکام ہم تو نہیں مانتے ہم تو بس سیدھی سادھی نماز پڑھتے ہیں۔ ان حضرات کو وہ نماز کی کتاب دکھائی گئی جو پہلے دعوی کرنے والا شخص دے گیا تھا کتاب میں نماز جنازہ کے ساتھ اس کے احکام لکھے گۓ تھے۔
اب تحریر آگے لکھی جانے لگی۔
غیر مقلد اپنی تمام نماز اور احکام قرآن و حدیث سے ۔ ۔ ۔ ۔
اب غیر مقلدین نے کہا اجماع اور قیاس بھی لکھو ۔انہیں کہا گیا آپ تو صرف قرآن حدیث کی بات کر رہے تھے کہنے لگے ہم وہی اجماع مانتے ہیں جو قرآن حدیث کے خلاف نہ ہو۔انہیں کہا گیا کوئی اجماع قرآن حدیٹ کے خلاف ہوا ہے؟۔اگر ہوا ہے تو کسی ایک کی مثال دیں۔
اچھا خیر تحریر لکھی گئی ۔ اب مناظرے کی جگہ کا تعین کرنا تھا ۔ انہوں نے جس دن جگہ دیکھنے آنا تھا اس دن نہ آۓ ۔ فون آیا کہ میں مصروف ہوں آج نہیں آ سکتا کل آوں گا۔ اب کتنے ہی دن بیت گۓ کوئی غیر مقلد نہیں آیا۔
مجھے امید ہے غیر مقلد بھائی اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر حق بات سمجھنے حق تک پہچنے کے لیے ضرور تشریف لائیں گے۔
06 March 2011
مروجہ میلاد اور حق پر کون؟
اسلام علیکم
قارئین ہم میں اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ مروجہ میلاد(ایک مخصوص دن منانا جھنڈے جھنڈیاں لہرانا)ایسا کرنا چاہیے یا نہیں۔ مروجہ میلاد منانے والے بھی دلایل دیتے ہیں کہتے ہیں جی یہ اللہ کی سنت اور نہ منانے والے بھی دلایل دیتے ہیں کہتے ہیں جی کہ مروجہ میلاد آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں منایا صحابہ رصی اللہ تعالی عنہم نے نہیں منایا تابعین تبع تابعین رح نے نہیں منایا حضرت پیران پیر شیخ عبداللہ قادر جیلانی رح نے نہیں منایا شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رح نے نہیں منایا تو ہم کون ہوتے ہیں مروجہ میلاد منانے والے۔ دلایل اور دلایل کا رد چلتا ہی رہتا ہے۔میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے کہ میری امت کے 73 فرقے بنیں گے جن میں حق پر وہ ہو گا جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر ہو گا۔
اب اگر ہم غیر جانبدار ہو کر سوچیں غور کریں تو ہم پر یہ بات واضح ہو جاۓ گی کہ مروجہ میلاد منانا آقا اور صحابہ کا طریقہ نہ تھا۔اب آپ ہی بتائیں کہ جو صحابہ کا طریقہ نہ تھا اس طریقہ کو اپنانے والے کیسے حق پر ہو سکتے ہیں؟
قارئین ہم میں اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ مروجہ میلاد(ایک مخصوص دن منانا جھنڈے جھنڈیاں لہرانا)ایسا کرنا چاہیے یا نہیں۔ مروجہ میلاد منانے والے بھی دلایل دیتے ہیں کہتے ہیں جی یہ اللہ کی سنت اور نہ منانے والے بھی دلایل دیتے ہیں کہتے ہیں جی کہ مروجہ میلاد آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں منایا صحابہ رصی اللہ تعالی عنہم نے نہیں منایا تابعین تبع تابعین رح نے نہیں منایا حضرت پیران پیر شیخ عبداللہ قادر جیلانی رح نے نہیں منایا شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رح نے نہیں منایا تو ہم کون ہوتے ہیں مروجہ میلاد منانے والے۔ دلایل اور دلایل کا رد چلتا ہی رہتا ہے۔میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے کہ میری امت کے 73 فرقے بنیں گے جن میں حق پر وہ ہو گا جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر ہو گا۔
اب اگر ہم غیر جانبدار ہو کر سوچیں غور کریں تو ہم پر یہ بات واضح ہو جاۓ گی کہ مروجہ میلاد منانا آقا اور صحابہ کا طریقہ نہ تھا۔اب آپ ہی بتائیں کہ جو صحابہ کا طریقہ نہ تھا اس طریقہ کو اپنانے والے کیسے حق پر ہو سکتے ہیں؟
29 November 2010
تبلیغی جماعت
تبلیغی جماعت ایک خالص دینی واصلاحی ودعوتی جماعت هے ، اور دعوت وتبلیغ وامربالمعروف ونہی عن المنکر امة اسلاميہ کا ایک اهم فریضہ ہے ، اور اسی اهم فریضہ کی انجام دہی کے لیئے اس تبلیغی تحریک کا اجراء کیا مجموعی طورپرجماعت پرخیر غالب ہے ، اور ہرزمانہ میں اہل حق کی مخالفت کی گئ ہے ، ایسا ہی تبلیغی جماعت کے ساتهہ هوا . اس بات میں کوئ شک وشبہ نہیں کہ تبلیغی جماعت کی یہ تحریک اورچلت پهرت بڑی مبارک ہے ، کتنے لوگوں کی زندگیاں اس جماعت کی برکت سے سنورگئیں ، کتنے کفروشرک کی ظلمات میں ڈوبے لوگ نورایمان وتوحید کی دولت سے مالامال ہوگئے ، کتنے فاسق وفاجر لوگ نیک صالح بن گئے ، کتنے بے نمازی نمازکے پابند ہوگئے ، کتنے بدعقیده خوش عقیده بن گئے ، کتنے بے داڑهی لوگوں کے چہرے داڑهی کے نور سے چمک گئے ، کتنے بدعات وخرافات میں مبتلا لوگ سنت کے نور سے منور ہوگئے ، کتنے ہی معاصی وگناہوں کی ظلمات سے نکل کرطاعات وعبادات کے خوگرهوگئے ،کتنے والدین کے نافرمان اولاد اپنے والدین کے فرماں بردار بن گئے ،کتنے غافل لوگ عابد وزاہد بن گئے ، حاصل یہ کہ تبلیغی جماعت کی جدوجہد کے یہ وه عمومی ثمرات ہیں جس کا کوئ جاہل ومعاند ہی انکارکرسکتا ہے ،
HAFIZ Super Moderator haqforum.com
HAFIZ Super Moderator haqforum.com
03 September 2010
غیبت و بدگوئی سے بھی بری برائی
ایک مرتبہ شیخ ابو القاسم نصر آبادی مشغول سماع تھے کہ اتفاق سے حضرت ابو عمر ابراہیم رح وہاں سے گزرے اور ان سوال کیا کہ سماع کیوں سنتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا کہ سماعت باہم بیٹھ کر بدگوئی کرنے اور سنے سے افصل ہےاپ نے فرمایا کہ تم سے ممکن ہے کہ حالت سماع میں کوئی ایسا فعل سرود ہو جاے جو غیبت و بدگئی کرنے اور سننے سے سینکڑوں گنا برا ہو۔
تذکرۃالاولیاء ص 436
تذکرۃالاولیاء ص 436
موت کا خواب
خلیفہ وقت نے ملک الموت کو خواب میں دیکھ کر پوجھا کہ اب میری کتنی وندگی رہ گئی ہے؟تو حضرت عزرائیل علیہ اسلام نے پانچ انگلیاں اٹھا دیں اور جب تمام لوگ اس کی تعبیر بتانے سے قاصر رہے تو حلیفہ نے امام ابو حنیفہ رح سے تعبیر پوچھی آپ نے فرمایا کہ پانچ انگلیوں سے ان پانچ چیزوں کی طرف اشارہ ہے جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں اول قیامت کب آۓ گی دوم بارش کب ہو گی سوم حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے جہارم کل انسان کیا کرے گا پنجم موت کب آۓ گی۔
تذکرۃالاولیاء ص 158
تذکرۃالاولیاء ص 158
مردوں کی لڑائی
حضرت بشر حافی رح نے ایک دن قبرستان میں مردوں کو لرتے ہوۓ دیکھ کر اللہ تعالی سے عرض کیا کہ یہ راز مجھے بھی معلوم ہو جاۓ اور جب میں نے ان مردوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل کسی شخص نے سورہ اخللاص پرھ کر اس کا ٹواب ہمیں بخش دیا تھا اور آج پورے ایک ہفتہ سے ہم اس کی تقسیم میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک وہ ختم نہیں ہوا۔
تذکرتالاولیاء ص 90
تذکرتالاولیاء ص 90
دوسروں کو نصیحت
خضرت حسن بصری رح سے عرض کیا گیا کہ بعض افراد کا یہ خیال ہے کہ دوسروں کو نصیحت اس وقت کرنی چاہیے جب خود بھی تمام برايوں سے پاک ہو جاۓ فرمایا کہ ابلیس تو یہی چاہتا ہے کہ اوامر نواہی کا سدباب ہو جاۓ۔
(تذکرۃالاولیاء صفحہ 19
مشتاق بک کارنر لاہور)
(تذکرۃالاولیاء صفحہ 19
مشتاق بک کارنر لاہور)
27 August 2010
اب کمپیوٹر بھی آپ کا موڈ سمجھ سکتے ہیں
کمپیوٹر بھی بہترین دوست کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں کیونکہ اب کمپیوٹر آپ کے موڈ کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حال ہی میں ایسے جدید کمپیوٹر پروگرام تیار کئے گئے ہیں جو کمپیوٹر استعمال کرنے والے شخص کے پل پل بدلتے ہوئے موڈ کے بارے میں صحیح طور پر آگاہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آپ خوشی، غم یا خوف کا شکار ہوں یا پھر کسی بات کی وجہ سے پریشان ہو ں یہ پروگرام آپ کو آپ کی کیفیت کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ کرسکتا ہے۔
عالمی اخبار
حال ہی میں ایسے جدید کمپیوٹر پروگرام تیار کئے گئے ہیں جو کمپیوٹر استعمال کرنے والے شخص کے پل پل بدلتے ہوئے موڈ کے بارے میں صحیح طور پر آگاہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آپ خوشی، غم یا خوف کا شکار ہوں یا پھر کسی بات کی وجہ سے پریشان ہو ں یہ پروگرام آپ کو آپ کی کیفیت کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ کرسکتا ہے۔
عالمی اخبار
کائنات کا نظارہ کمپیوٹر سکرین پر
مائیکروسافٹ نے علمِ فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے ایک ایسا پروگرام متعارف کروایا ہے جس کی مدد سے کہکشاؤں اور ستاروں کا نظارہ کمپیوٹر سکرین پر ہی ممکن ہے۔
ورلڈ وائیڈ ٹیلی سکوپ یا عالمی دوربین نامی یہ کمپیوٹر پروگرام زمین اور خلا میں موجود بہترین دوربینوں سے حاصل شدہ تصاویر کو جوڑ کر کمپیوٹر صارف کے سامنے پیش کرتا ہے۔
ان میں چاندرا ایکس رے رصد گاہ کے علاوہ ہبل اور سپٹزر جیسی مشہور اور طاقتور دوربینوں سے حاصل شدہ تصاویر بھی شامل ہیں۔
ویب پر چلنے والا یہ پروگرام صارف کو کائناتی تصاویر کو نہ صرف قریب اور دور سے دیکھنے کی سہولت مہیا کرتا ہے بلکہ رات کو آسمان پر ان کی جگہ کے تعین میں بھی مدد دیتا ہے۔
فلکی طبیعات کے امریکی تحقیقاتی ادارے ہارورڈ سمتھ سونین انسٹیٹوٹ آف آسٹروفزکس کے ایک محقق روائے گُولڈ کا کہنا ہے کہ’ صارف نہ صرف اب آسمان کے اندر جھانک سکتے ہیں بلکہ شعاعی بادلوں اور ایک ہزار برس قبل ہونے والے سپرنووا دھماکے کے بعد بچنے والے بادل کو بھی دیکھ سکتے ہیں‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ پروگرام عوام کو علمِ فلکیات کی جانب متوجہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور ’میرے نزدیک پیشہ ور ماہرینِ فلکیات بھی اسے استعمال کریں گے‘۔
واضح رہے کہ مائیکروسافٹ کی یہ عالمی دوربین واحد ایسا کمپیوٹر پروگرام نہیں جو کہ کمپیوٹر صارفین کو خلا میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ برس مائیکروسافٹ کی حریف کمپنی گوگل نے’سکائی‘ کے نام سے ایک ایسا ڈیلی پروگرام متعارف کروایا تھا جو کہ’گوگل ارتھ‘ کے ساتھ کام کرتا ہے اور اس کی مدد سے ماہرینِ فلکیات دس لاکھ ستارے اور دو سو ملین کہکشاؤں کا نظارہ کر سکتے ہیں۔
مجیب منصور
ورلڈ وائیڈ ٹیلی سکوپ یا عالمی دوربین نامی یہ کمپیوٹر پروگرام زمین اور خلا میں موجود بہترین دوربینوں سے حاصل شدہ تصاویر کو جوڑ کر کمپیوٹر صارف کے سامنے پیش کرتا ہے۔
ان میں چاندرا ایکس رے رصد گاہ کے علاوہ ہبل اور سپٹزر جیسی مشہور اور طاقتور دوربینوں سے حاصل شدہ تصاویر بھی شامل ہیں۔
ویب پر چلنے والا یہ پروگرام صارف کو کائناتی تصاویر کو نہ صرف قریب اور دور سے دیکھنے کی سہولت مہیا کرتا ہے بلکہ رات کو آسمان پر ان کی جگہ کے تعین میں بھی مدد دیتا ہے۔
فلکی طبیعات کے امریکی تحقیقاتی ادارے ہارورڈ سمتھ سونین انسٹیٹوٹ آف آسٹروفزکس کے ایک محقق روائے گُولڈ کا کہنا ہے کہ’ صارف نہ صرف اب آسمان کے اندر جھانک سکتے ہیں بلکہ شعاعی بادلوں اور ایک ہزار برس قبل ہونے والے سپرنووا دھماکے کے بعد بچنے والے بادل کو بھی دیکھ سکتے ہیں‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ پروگرام عوام کو علمِ فلکیات کی جانب متوجہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور ’میرے نزدیک پیشہ ور ماہرینِ فلکیات بھی اسے استعمال کریں گے‘۔
واضح رہے کہ مائیکروسافٹ کی یہ عالمی دوربین واحد ایسا کمپیوٹر پروگرام نہیں جو کہ کمپیوٹر صارفین کو خلا میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ برس مائیکروسافٹ کی حریف کمپنی گوگل نے’سکائی‘ کے نام سے ایک ایسا ڈیلی پروگرام متعارف کروایا تھا جو کہ’گوگل ارتھ‘ کے ساتھ کام کرتا ہے اور اس کی مدد سے ماہرینِ فلکیات دس لاکھ ستارے اور دو سو ملین کہکشاؤں کا نظارہ کر سکتے ہیں۔
مجیب منصور
خلاء میں سیاحت، جیٹ کی رونمائی
برینسن نے جہاز کا نام ’اِیو‘ اپنی والدہ کے نام پر رکھا ہے .برطانوی بِزنِسمین رچرڈ برینسن نے خلاء میں سیاحت کے اپنے منصوبے میں شامل جیٹ طیارے کی رونمائی کی ہے۔ برینسن کے خیال میں سیاحوں کو خلاء کی سیر کروانے کے لیے پرواز میں ابھی اٹھارہ ماہ لگ سکتے ہیں۔
’اِیو‘ نامی اس طیارے کی رونمائی امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ہوئی۔ یہ جیٹ طیارہ اس جہاز کو بلندیوں پر لے کر جائے گا جس میں سیاح سوار ہوں گے اور جو مقررہ بلندی پر پہنچ کر ’اِیو‘ سے الگ ہو گا اور زمین کی فضا سے باہر نکل جائے گا۔
خلاء میں جانے والے چھوٹے جہاز میں چھ مسافر اور دو افراد پر مشتمل عملہ شامل ہوگا۔ اس سفر کے لیے ایک ٹکٹ کی قیمت ایک لاکھ پاؤنڈ ہے۔ اب تک دو سو پچاس ٹکٹ بِک بھی چکے ہیں۔
پرواز سے پہلے ’اِیو‘ کو ابھی آزمائشی پروازوں کے مرحلے سے گزرنا ہے۔ پروگرام کے مطابق خلاء میں جانے والے جہاز کو ’اِیو‘ کے پروں سے منسلک کیا جائے گا۔ پچاس ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ کر چھوٹا جہاز الگ ہو جائے گا اور باسٹھ میل کی بلندی تک پرواز کرے گا۔ سپیس شِپ ٹو کہلانے والا یہ خلائی جہاز ابھی تکمیل کے مراحل سے گزر رہا ہے۔
’اِیو‘ نامی اس طیارے کی رونمائی امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ہوئی۔ یہ جیٹ طیارہ اس جہاز کو بلندیوں پر لے کر جائے گا جس میں سیاح سوار ہوں گے اور جو مقررہ بلندی پر پہنچ کر ’اِیو‘ سے الگ ہو گا اور زمین کی فضا سے باہر نکل جائے گا۔
خلاء میں جانے والے چھوٹے جہاز میں چھ مسافر اور دو افراد پر مشتمل عملہ شامل ہوگا۔ اس سفر کے لیے ایک ٹکٹ کی قیمت ایک لاکھ پاؤنڈ ہے۔ اب تک دو سو پچاس ٹکٹ بِک بھی چکے ہیں۔
پرواز سے پہلے ’اِیو‘ کو ابھی آزمائشی پروازوں کے مرحلے سے گزرنا ہے۔ پروگرام کے مطابق خلاء میں جانے والے جہاز کو ’اِیو‘ کے پروں سے منسلک کیا جائے گا۔ پچاس ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ کر چھوٹا جہاز الگ ہو جائے گا اور باسٹھ میل کی بلندی تک پرواز کرے گا۔ سپیس شِپ ٹو کہلانے والا یہ خلائی جہاز ابھی تکمیل کے مراحل سے گزر رہا ہے۔
لیپ ٹاپ کی دنیا میں نئی جدت، نوٹ بک
کمپیوٹر اور آئی ٹی ماہرین کا خیال ہے سائز میں نسبتا چھوٹی نوٹ بک ٹو لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کی دنیا میں نئی جدتوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ اس چھوٹی نوٹ بک میں جو چیز موجودہ لیپ ٹاپس سے مختلف ہوگی وہ ہے ان میں انٹل کارپوریشن کے پراسیسر اور موجودہ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کی غیر موجودگی، حالانکہ یہ دونوں چیزیں موجودہ دور کے لیپ ٹاپس کا ضروری حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
نوٹ بک ٹو میں جو کہ سائز میں اتنی چھوٹی ہوگی کہ ایک پرس میں بھی سما جائے دراصل بہت ہی کم پاور استعمال کرنے والا ARM پراسیسر لگا ہوگا۔ جو کہ اس وقت جدید موبائل فونز کے ہر دس میں سے نو میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کی ARM Holdings نامی کمپنی نے اس سلسلے میں مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرلئے ہیں۔ اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ اس برس کے آخر تک ARM پراسیسرز پر مشتمل نوٹ بک ٹو کے تقریبا دس ماڈل مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کردیے جائیں گے۔
کمپیوٹرز اور ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق کرنے والی کمپنی اینڈرلے کے گروپ اینالسٹ راب اینڈرلے کے مطابق یہ نئی نوٹ بکس مارکیٹ کو تہہ وبالا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور موجودہ لیپ ٹاپ کی مقبولیت کے لئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔
نئی نوٹ بکس مارکیٹ کو تہہ وبالا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں-
تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی تک یہ تو یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ موجودہ لیپ ٹاپ یوزر اس نوٹ بک میں کس قدر دلچسپی لیتے ہیں مگر جو چیزیں نوٹ بک ٹو کو پرکشش بناتی ہیں ان میں بہت کم پاور کا استعمال جس کی وجہ سے ایک مرتبہ چارج کی گئی بیٹری سے بہت دیر تک اس نوٹ بک کو استعمال کیا جاسکے گا۔ دوسرے اس کی قیمت جو کہ تقریبا دو سو امریکی ڈالر تک ہوسکتی ہے اور تیسرے اسکے سائز کی وجہ سے ہرجگہ استعمال کی دستیابی کی سہولت۔
لیکن جن چیزوں پر یوزرز کو سمجھوتا کرنا پڑے گا ان سے سی پہلی چیز ہے موجودہ لیپ ٹاپس کا انٹرفیس یا کام کرنے کا طریقہ اور دوسری بہت زیادہ طاقتور پراسیسر جو بعض اپلیکشنز یا کاموں کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت بھی جو انٹل کا Atom پراسیسر استعمال کرنے والی نسبتا چھوٹی نوٹ بکس مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور جن کی قیمت تین سو سے چار سو امریکی ڈالر تک ہے وہ بھی صرف انٹرنیٹ اور عام قسم کے کمپیوٹر اپلیکیشنز کے لئے ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔
تحریر: افسراعوان
نوٹ بک ٹو میں جو کہ سائز میں اتنی چھوٹی ہوگی کہ ایک پرس میں بھی سما جائے دراصل بہت ہی کم پاور استعمال کرنے والا ARM پراسیسر لگا ہوگا۔ جو کہ اس وقت جدید موبائل فونز کے ہر دس میں سے نو میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کی ARM Holdings نامی کمپنی نے اس سلسلے میں مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرلئے ہیں۔ اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ اس برس کے آخر تک ARM پراسیسرز پر مشتمل نوٹ بک ٹو کے تقریبا دس ماڈل مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کردیے جائیں گے۔
کمپیوٹرز اور ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق کرنے والی کمپنی اینڈرلے کے گروپ اینالسٹ راب اینڈرلے کے مطابق یہ نئی نوٹ بکس مارکیٹ کو تہہ وبالا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور موجودہ لیپ ٹاپ کی مقبولیت کے لئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔
نئی نوٹ بکس مارکیٹ کو تہہ وبالا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں-
تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی تک یہ تو یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ موجودہ لیپ ٹاپ یوزر اس نوٹ بک میں کس قدر دلچسپی لیتے ہیں مگر جو چیزیں نوٹ بک ٹو کو پرکشش بناتی ہیں ان میں بہت کم پاور کا استعمال جس کی وجہ سے ایک مرتبہ چارج کی گئی بیٹری سے بہت دیر تک اس نوٹ بک کو استعمال کیا جاسکے گا۔ دوسرے اس کی قیمت جو کہ تقریبا دو سو امریکی ڈالر تک ہوسکتی ہے اور تیسرے اسکے سائز کی وجہ سے ہرجگہ استعمال کی دستیابی کی سہولت۔
لیکن جن چیزوں پر یوزرز کو سمجھوتا کرنا پڑے گا ان سے سی پہلی چیز ہے موجودہ لیپ ٹاپس کا انٹرفیس یا کام کرنے کا طریقہ اور دوسری بہت زیادہ طاقتور پراسیسر جو بعض اپلیکشنز یا کاموں کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت بھی جو انٹل کا Atom پراسیسر استعمال کرنے والی نسبتا چھوٹی نوٹ بکس مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور جن کی قیمت تین سو سے چار سو امریکی ڈالر تک ہے وہ بھی صرف انٹرنیٹ اور عام قسم کے کمپیوٹر اپلیکیشنز کے لئے ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔
تحریر: افسراعوان
15 August 2010
بیانات کی ویب
اسلام علیکم قارئین
نامور علماء مشہور علماء کے بے شمار بیانات راۓ ونڈ اجتماع کے بیانات آپ اس ویب سے ڈانلوڈ کر سکتے ہیں
علم کا خزانہ آپ سے چند کلک کے فاصلہ پر۔ ۔ ۔
http://islamic-creed.com/URDU%20BAYAAN.html
نامور علماء مشہور علماء کے بے شمار بیانات راۓ ونڈ اجتماع کے بیانات آپ اس ویب سے ڈانلوڈ کر سکتے ہیں
علم کا خزانہ آپ سے چند کلک کے فاصلہ پر۔ ۔ ۔
http://islamic-creed.com/URDU%20BAYAAN.html
08 August 2010
حافظ پیر مولانا ذوالفقار احمد صاحب کے بیانات
حصرت جی کے بے شمار بیانات اب آپ آن لائین سن کتے ہیں ڈاون لوڈ کر سکتے ہں
درس حدیث خصوصی مجالس بیانات اعتکاف بیانات ححج بیانات نظمیںیہاں پیش کی گئی ہیں
اولیاء کرام کے واقعات روزے کی حکمت رمضان کی تیاری قرآن کی حفاطت انسان کی حقیقتعشق مدینہ ولزلے کیوں آتے ہیں؟ جیسے عنوانات پر بھی بیان موجود ہیں
http://www.tasawwuf.org/audio/index_urdu.htm
درس حدیث خصوصی مجالس بیانات اعتکاف بیانات ححج بیانات نظمیںیہاں پیش کی گئی ہیں
اولیاء کرام کے واقعات روزے کی حکمت رمضان کی تیاری قرآن کی حفاطت انسان کی حقیقتعشق مدینہ ولزلے کیوں آتے ہیں؟ جیسے عنوانات پر بھی بیان موجود ہیں
http://www.tasawwuf.org/audio/index_urdu.htm
30 July 2010
طوفانی خبریں
میانوالی اور نواحی علاقوں میں بارش سے چار افراد جاں بحق
میانوالی… میانوالی اور نواحی علاقوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 215 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جس سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ واں بھچراں کے قریب نہر ون آر میں 14 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ عیسیٰ خیل، کالا باغ اور موسیٰ خیل میں کئی دکانیں اور مکانات گر گئے جبکہ فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔مزید جانی اور مالی نقصان سے بچنے کیلئے دیہات میں لاؤڈاسپیکروں پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے اعلان کیے جا رہے ہیں
سندھ :چشمہ اور جناح بیراج میں سیلاب
کراچی: دریائے سندھ میں جناح اور چشمہ بیراج کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، ضلع میانوالی میں بارش کے دوران حادثات میں پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے۔ بارش کے پانی سے خوشاب اور راجن پور کے سو سے زائد دیہات زیر آب آ گئے۔ میانوالی شہر کو دریائے سند ھ سے محفوظ رکھنے والے بند بلو خیل میں شگاف پڑنے سے پانی میانوالی شہر میں داخل ہوگیا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہاہے۔
دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے بعد سیالکوٹ میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ ستاون ہزار ایک سو چھبیس کیوسک ہے۔ دریائے چناب کے کنارے ایبادیوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے ملتان کے نواحی علاقوں میں نچلے درجے کا سیلاب آ گیا ہے جس سے درجنوں بستیاں زیرآب آ گئی ہیں۔ گوجرانوالہ میں ہیڈ خانکی کے مقام پر پانی کی سطح کم ہوکر دو لاکھ تین ہزار کیوسک ہو چکی ہے۔
دریائے سندھ میں جناح اور چشمہ بیراج کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ضلع میانوالی میں کالا باغ کے مقام پر بارشوں سے متعدد مکانات گرگئے۔ مختلف دیہات میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے جبکہ دریائے کرم میں طغیانی سے تحصیل عیسیٰ خیل کے متعدد دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ لیہ میں بھی ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی حالات نافذ کر دیئے گئے ہیں۔ دریائے جہلم میں رسول بیراج کے قریبی دیہات میں وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ منگلا ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے جہلم میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔
خوشاب کے شہری علاقے اور تریسٹھ دیہات میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ضلع بھر میں سیلابی پانی سے گرنے والے مکانات کی تعداد سو ہو چکی ہے۔ ادھر کوہ سلیمان میں بارشوں کے بعد راجن پور کے دیہات سے اسی ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جبکہ علاقے کا زمینی رابطہ ایک مرتبہ پھر منقطع ہو گیا ہے۔
ننکانہ صاحب کے قریب نالہ ڈیک کے کنارے پر واقع گاؤں خیرپور بھٹیاں کی سینکڑوں ایکڑ اراضی نالے میں طغیانی آنے سے زیر آب آگئی ہے۔تونسہ شریف میں بھی بستی ڈکھہ، بستی کلاچی، یونین کونسل فتح خان سمیت متعدد مقامات میں ہزاروں افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔ سنگھڑ ندی سے ایک لاکھ کیوسک اور وسوا ندی سے پچہتر ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔
راجن پور:سیلاب نے تباہی مچا دی،4 جاں بحق:
لاہور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 جولائی۔2010ء) پنجاب میں میانوالی کے علاقوں میں موسلادھار بارش اور سیلاب کے نتیجے میں مختلف حادثات میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ راجن پور، روجھان اور تونسہ میں سیلابی ریلوں کے باعث درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں۔جبکہ دریائے جہلم میں طغیانی سے چھ دیہات زیرآب آگئے۔ میانوالی کے علاقوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں مکان کی چھت گرنے اور کرنٹ لگنے سے چار افراد جاں بحق اور اٹھارہ افراد زخمی ہوگئے۔ کالاباغ سے سیلابی ریلہ عیسیٰ خیل اور چھدرو کے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ نجی سیمنٹ فیکٹری میں پانی داخل ہونے سے پلانٹ کو بند کردیا گیا۔ دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر چھ لاکھ ساٹھ ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے۔ اور پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں بستی نتکانی، موضع درخواست جمال خان میں سیلابی ریلہ داخل ہونے سے سیکڑوں افراد متاثر ہوئے۔ تحصیل روجھان میں سیلابی ریلے کے باعث چالیس دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ متعدد دیہات کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر سات لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ گزرے گا، جس سے کچے کے علاقوں اور ملحقہ آبادیوں میں نقصان کا خطرہ ہے۔ روجھان کے علاقوں میں مختلف پہاڑی سیلابی ریلوں کے علاوہ دریائے سندھ کا کٹاو بھی شروع ہوگیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں اعلان کرکے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی جارہی ہے۔ ادھر دریائے جہلم میں طغیانی سے وچلا بیلا سمیت آٹھ دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں چار ہزار افراد پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے دو کشتیاں کام کر رہی ہیں۔ جبکہ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو نے راولپنڈی سے مزید کشتیاں طلب کرلی ہیں۔ ادھر خوشاب میں پہاڑی ندی نالوں نے دامن پہاڑ کے درجنوں دیہات میں تباہی مچادی جس سے سینکڑوں لوگ بے گھر اور متعدد مویشی ہلاک ہوگئے۔
خیبر پختونخوا، بارش اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، 230 افراد جاں بحق،خیبر پختونخواہ کو پہلے دہشتگردوں نے تباہ کر دیا جو بچا تھا وہ سیلاب کی نذر ہو گیا، افتخار حسین،رابطہ پل اور سڑکیں ٹوٹنے سے 4لاکھ کے قریب افراد متاثرہ علاقوں میں پھنس گئے ، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ، صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی،وفاقی حکومت اور عوام مدد کریں،وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ کی پریس کانفرنس:
پشاور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 جولائی۔2010ء)خیبر پختونخوا میں بارش اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ، دو سو تیس افراد جاں بحق ہوگئے جس میں سوات ،شانگلہ اور کوہستان میں سیلاب سے جاں بحق ہونے والے ایک سو اسی افراد بھی شامل ہیں ۔ سیلاب متاثرین کی منتقلی کیلئے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ تین چینی ماہرین سمیت متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔سوات کے علاوہ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی بارش اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں مزید پچیس افراد ہلاک ہوگئے،مختلف علاقوں میں ہزاروں گھر اور متعدد رابطہ پل بہہ گئے۔ صوبے میں مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہے۔پشاور میں بارش سے مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور خراب موسم کے باعث پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ شہر کا ملک کے دوسرے علاقوں سے ٹرین رابطہ بھی معطل ہے۔ مختلف علاقوں میں کئی گھنٹوں سے بجلی غائب ہے اور موبائل فون سروس متاثر ہے۔چارسدہ میں دو بچوں سمیت دس افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سیلاب سے سینکڑوں مکانات بہہ گئے۔ مانسہرہ میں شدید بارش کے باعث مختلف حادثات میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ بجلی اور ٹیلی مواصلات کی سہولتیں معطل ہیں۔ نوشہرہ میں کرنٹ لگنے سے تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ ہنگو کے علاقے لختی بانڈہ میں سیلاب سے تین بچے بہہ گئے۔کوہاٹ میں جرمہ پل گرنے سے آٹھ افراد ملبے تلے دب گئے۔ گمبٹ میں بیس گھر منہدم ہوگئے جبکہ دو خواتین اور دو بچے سیلاب میں بہہ گئے۔ سیلابی ریلے کے باعث کنڈیالی بند ٹوٹنے کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے قریبی علاقے خالی کرالیے گئے۔ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ایف آر درہ زندہ میں مکان کی چھت گرنے سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ دیر لوئر کے علاقے چکدرہ میں آبی ریلے کے باعث سرکاری ریسٹ ہاوس میں ایک سو دو اور مندرہ ہیڈ ورسک میں اسی افراد پھنس گئے۔ سیلابی ریلے کے باعث متعدد رابطہ پل بھی بہہ گئے۔خال میں چار افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔کرک اور ملحقہ علاقوں میں بارش سے درجنوں مکانات منہدم ہوچکے ہیں۔ چوبیس گھنٹے کے دوران حادثات میں پانچ افراد جاں بحق ہوگئے۔ ٹانک میں زام کے قریب سیلابی ریلے سے میاں بیوی کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایبٹ ایباد میں بارش کے باعث مکان گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔پٹن ٹنل میں طغیانی سے متعدد چینی ماہرین اور ایف سی اہلکار لاپتہ ہوگئے تھے۔ کمشنر صاحبزادہ انیس کے مطابق پٹن میں پچپن چینی ماہرین موجود تھے جس میں سے باون ماہرین کو نکال لیا گیا اور دیگر تین ماہرین کو بھی جلد نکال لیا جائے گا۔ دوبیر میں سو سے زائد افراد لاپتہ ہیں جبکہ بار ش او ر سیلاب کے باعث مختلف مقامات پر چونتیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں طوفانی بارشوں کے باعث 60سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، رابطہ پل اور سڑکیں ٹوٹنے سے 4لاکھ کے قریب افراد متاثرہ علاقوں میں پھنس گئے ، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ، صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی،متاثرین کوخیمے ، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ، وفاقی حکومت اور عوام مدد کریں، خیبرپختونخواہ کو پہلے دہشت گردوں نے تباہ کردیا جو بچا تھا وہ سیلاب کی نذر ہو گیا ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت پورے صوبے کو طوفانی بارشوں اور سیلاب نے گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ضلع شانگلہ میں 22افراد جاں بحق اور 30زخمی ہو گئے جبکہ درجنوں مکانات منہدم ہو گئے ۔ انفراسٹرکچر کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے ۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں ۔ سوات اور دیر میں بھی بارشوں نے تباہی مچادی ہے ، دریائے سوات پر رابطہ پل سیلاب میں بہہ چکے ہیں۔ اپر دیر میں 10افراد جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے ۔ ترنگل میں بے نظیربھٹو یونیورسٹی کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوشہرہ اور پبی میں متعدد دیہات میں پانی گھس جانے سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے تمام راستے بند ہو گئے ہیں نوشہرہ میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ساٹھ لاکھ روپے فراہم کردیئے گئے ہیں جن کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ بٹگرام کی تحصیل الائی میں 6افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دو مین سڑکوں سمیت تمام رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں۔ سی اینڈ ڈبلیو کا ریسٹ ہاؤس بھی پانی سے بہہ گیا ۔ چھوٹے بڑے رابطہ پل بھی سیلاب کی نذر ہو گئی۔ الائی کے تین دیہاتوں کو شدید خطرہ ہے ، پانی بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شدید بارش اور سیلاب ایک آفت اور قومی المیہ ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ یہ عوام کے جان و مال کو محفوظ بنایا جاسکے۔ خیبرپختونخواہ کو پہلے دہشت گردوں نے تباہ کردیا تھا جو کچھ بچا تھا وہ سیلاب کی نذر ہو گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کی مخیر حضرات اور چاروں صوبوں کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف پہنچانے کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرکے تمام اراکین اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کی مدد کیلئے کام کریں۔ وزیراعلیٰ امیر حیدرہوتی نے کشتیوں کی خریداری کیلئے رقم فراہم کردی ہے۔ یہ کشتیاں کراچی سے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے منگوانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے ۔ متاثرین کوخیمے ، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور اس مقصد کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں ہماری تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے اپیل ہے کہ متاثرین سیلاب کوبچانے کیلئے ہر مسئلہ کو اولین ترجیح دی جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مجموعی طورپر ساٹھ کے قریب ہلاکتوں کی اطلاع ہے جبکہ رابطہ سڑکیں اور پل ٹوٹنے سے چار لاکھ کے قریب متاثرہ علاقوں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
میانوالی… میانوالی اور نواحی علاقوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 215 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جس سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ واں بھچراں کے قریب نہر ون آر میں 14 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ عیسیٰ خیل، کالا باغ اور موسیٰ خیل میں کئی دکانیں اور مکانات گر گئے جبکہ فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔مزید جانی اور مالی نقصان سے بچنے کیلئے دیہات میں لاؤڈاسپیکروں پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے اعلان کیے جا رہے ہیں
سندھ :چشمہ اور جناح بیراج میں سیلاب
کراچی: دریائے سندھ میں جناح اور چشمہ بیراج کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، ضلع میانوالی میں بارش کے دوران حادثات میں پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے۔ بارش کے پانی سے خوشاب اور راجن پور کے سو سے زائد دیہات زیر آب آ گئے۔ میانوالی شہر کو دریائے سند ھ سے محفوظ رکھنے والے بند بلو خیل میں شگاف پڑنے سے پانی میانوالی شہر میں داخل ہوگیا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہاہے۔
دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے بعد سیالکوٹ میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ ستاون ہزار ایک سو چھبیس کیوسک ہے۔ دریائے چناب کے کنارے ایبادیوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے ملتان کے نواحی علاقوں میں نچلے درجے کا سیلاب آ گیا ہے جس سے درجنوں بستیاں زیرآب آ گئی ہیں۔ گوجرانوالہ میں ہیڈ خانکی کے مقام پر پانی کی سطح کم ہوکر دو لاکھ تین ہزار کیوسک ہو چکی ہے۔
دریائے سندھ میں جناح اور چشمہ بیراج کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ضلع میانوالی میں کالا باغ کے مقام پر بارشوں سے متعدد مکانات گرگئے۔ مختلف دیہات میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے جبکہ دریائے کرم میں طغیانی سے تحصیل عیسیٰ خیل کے متعدد دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ لیہ میں بھی ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی حالات نافذ کر دیئے گئے ہیں۔ دریائے جہلم میں رسول بیراج کے قریبی دیہات میں وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ منگلا ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے جہلم میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔
خوشاب کے شہری علاقے اور تریسٹھ دیہات میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ضلع بھر میں سیلابی پانی سے گرنے والے مکانات کی تعداد سو ہو چکی ہے۔ ادھر کوہ سلیمان میں بارشوں کے بعد راجن پور کے دیہات سے اسی ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جبکہ علاقے کا زمینی رابطہ ایک مرتبہ پھر منقطع ہو گیا ہے۔
ننکانہ صاحب کے قریب نالہ ڈیک کے کنارے پر واقع گاؤں خیرپور بھٹیاں کی سینکڑوں ایکڑ اراضی نالے میں طغیانی آنے سے زیر آب آگئی ہے۔تونسہ شریف میں بھی بستی ڈکھہ، بستی کلاچی، یونین کونسل فتح خان سمیت متعدد مقامات میں ہزاروں افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔ سنگھڑ ندی سے ایک لاکھ کیوسک اور وسوا ندی سے پچہتر ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔
راجن پور:سیلاب نے تباہی مچا دی،4 جاں بحق:
لاہور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 جولائی۔2010ء) پنجاب میں میانوالی کے علاقوں میں موسلادھار بارش اور سیلاب کے نتیجے میں مختلف حادثات میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ راجن پور، روجھان اور تونسہ میں سیلابی ریلوں کے باعث درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں۔جبکہ دریائے جہلم میں طغیانی سے چھ دیہات زیرآب آگئے۔ میانوالی کے علاقوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں مکان کی چھت گرنے اور کرنٹ لگنے سے چار افراد جاں بحق اور اٹھارہ افراد زخمی ہوگئے۔ کالاباغ سے سیلابی ریلہ عیسیٰ خیل اور چھدرو کے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ نجی سیمنٹ فیکٹری میں پانی داخل ہونے سے پلانٹ کو بند کردیا گیا۔ دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر چھ لاکھ ساٹھ ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے۔ اور پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں بستی نتکانی، موضع درخواست جمال خان میں سیلابی ریلہ داخل ہونے سے سیکڑوں افراد متاثر ہوئے۔ تحصیل روجھان میں سیلابی ریلے کے باعث چالیس دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ متعدد دیہات کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر سات لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ گزرے گا، جس سے کچے کے علاقوں اور ملحقہ آبادیوں میں نقصان کا خطرہ ہے۔ روجھان کے علاقوں میں مختلف پہاڑی سیلابی ریلوں کے علاوہ دریائے سندھ کا کٹاو بھی شروع ہوگیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں اعلان کرکے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی جارہی ہے۔ ادھر دریائے جہلم میں طغیانی سے وچلا بیلا سمیت آٹھ دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں چار ہزار افراد پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے دو کشتیاں کام کر رہی ہیں۔ جبکہ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو نے راولپنڈی سے مزید کشتیاں طلب کرلی ہیں۔ ادھر خوشاب میں پہاڑی ندی نالوں نے دامن پہاڑ کے درجنوں دیہات میں تباہی مچادی جس سے سینکڑوں لوگ بے گھر اور متعدد مویشی ہلاک ہوگئے۔
خیبر پختونخوا، بارش اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، 230 افراد جاں بحق،خیبر پختونخواہ کو پہلے دہشتگردوں نے تباہ کر دیا جو بچا تھا وہ سیلاب کی نذر ہو گیا، افتخار حسین،رابطہ پل اور سڑکیں ٹوٹنے سے 4لاکھ کے قریب افراد متاثرہ علاقوں میں پھنس گئے ، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ، صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی،وفاقی حکومت اور عوام مدد کریں،وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ کی پریس کانفرنس:
پشاور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 جولائی۔2010ء)خیبر پختونخوا میں بارش اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ، دو سو تیس افراد جاں بحق ہوگئے جس میں سوات ،شانگلہ اور کوہستان میں سیلاب سے جاں بحق ہونے والے ایک سو اسی افراد بھی شامل ہیں ۔ سیلاب متاثرین کی منتقلی کیلئے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ تین چینی ماہرین سمیت متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔سوات کے علاوہ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی بارش اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں مزید پچیس افراد ہلاک ہوگئے،مختلف علاقوں میں ہزاروں گھر اور متعدد رابطہ پل بہہ گئے۔ صوبے میں مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہے۔پشاور میں بارش سے مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور خراب موسم کے باعث پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ شہر کا ملک کے دوسرے علاقوں سے ٹرین رابطہ بھی معطل ہے۔ مختلف علاقوں میں کئی گھنٹوں سے بجلی غائب ہے اور موبائل فون سروس متاثر ہے۔چارسدہ میں دو بچوں سمیت دس افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سیلاب سے سینکڑوں مکانات بہہ گئے۔ مانسہرہ میں شدید بارش کے باعث مختلف حادثات میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ بجلی اور ٹیلی مواصلات کی سہولتیں معطل ہیں۔ نوشہرہ میں کرنٹ لگنے سے تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ ہنگو کے علاقے لختی بانڈہ میں سیلاب سے تین بچے بہہ گئے۔کوہاٹ میں جرمہ پل گرنے سے آٹھ افراد ملبے تلے دب گئے۔ گمبٹ میں بیس گھر منہدم ہوگئے جبکہ دو خواتین اور دو بچے سیلاب میں بہہ گئے۔ سیلابی ریلے کے باعث کنڈیالی بند ٹوٹنے کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے قریبی علاقے خالی کرالیے گئے۔ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ایف آر درہ زندہ میں مکان کی چھت گرنے سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ دیر لوئر کے علاقے چکدرہ میں آبی ریلے کے باعث سرکاری ریسٹ ہاوس میں ایک سو دو اور مندرہ ہیڈ ورسک میں اسی افراد پھنس گئے۔ سیلابی ریلے کے باعث متعدد رابطہ پل بھی بہہ گئے۔خال میں چار افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔کرک اور ملحقہ علاقوں میں بارش سے درجنوں مکانات منہدم ہوچکے ہیں۔ چوبیس گھنٹے کے دوران حادثات میں پانچ افراد جاں بحق ہوگئے۔ ٹانک میں زام کے قریب سیلابی ریلے سے میاں بیوی کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایبٹ ایباد میں بارش کے باعث مکان گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔پٹن ٹنل میں طغیانی سے متعدد چینی ماہرین اور ایف سی اہلکار لاپتہ ہوگئے تھے۔ کمشنر صاحبزادہ انیس کے مطابق پٹن میں پچپن چینی ماہرین موجود تھے جس میں سے باون ماہرین کو نکال لیا گیا اور دیگر تین ماہرین کو بھی جلد نکال لیا جائے گا۔ دوبیر میں سو سے زائد افراد لاپتہ ہیں جبکہ بار ش او ر سیلاب کے باعث مختلف مقامات پر چونتیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں طوفانی بارشوں کے باعث 60سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، رابطہ پل اور سڑکیں ٹوٹنے سے 4لاکھ کے قریب افراد متاثرہ علاقوں میں پھنس گئے ، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ، صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی،متاثرین کوخیمے ، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ، وفاقی حکومت اور عوام مدد کریں، خیبرپختونخواہ کو پہلے دہشت گردوں نے تباہ کردیا جو بچا تھا وہ سیلاب کی نذر ہو گیا ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت پورے صوبے کو طوفانی بارشوں اور سیلاب نے گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ضلع شانگلہ میں 22افراد جاں بحق اور 30زخمی ہو گئے جبکہ درجنوں مکانات منہدم ہو گئے ۔ انفراسٹرکچر کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے ۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں ۔ سوات اور دیر میں بھی بارشوں نے تباہی مچادی ہے ، دریائے سوات پر رابطہ پل سیلاب میں بہہ چکے ہیں۔ اپر دیر میں 10افراد جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے ۔ ترنگل میں بے نظیربھٹو یونیورسٹی کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوشہرہ اور پبی میں متعدد دیہات میں پانی گھس جانے سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے تمام راستے بند ہو گئے ہیں نوشہرہ میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ساٹھ لاکھ روپے فراہم کردیئے گئے ہیں جن کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ بٹگرام کی تحصیل الائی میں 6افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دو مین سڑکوں سمیت تمام رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں۔ سی اینڈ ڈبلیو کا ریسٹ ہاؤس بھی پانی سے بہہ گیا ۔ چھوٹے بڑے رابطہ پل بھی سیلاب کی نذر ہو گئی۔ الائی کے تین دیہاتوں کو شدید خطرہ ہے ، پانی بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شدید بارش اور سیلاب ایک آفت اور قومی المیہ ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ یہ عوام کے جان و مال کو محفوظ بنایا جاسکے۔ خیبرپختونخواہ کو پہلے دہشت گردوں نے تباہ کردیا تھا جو کچھ بچا تھا وہ سیلاب کی نذر ہو گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کی مخیر حضرات اور چاروں صوبوں کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف پہنچانے کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرکے تمام اراکین اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کی مدد کیلئے کام کریں۔ وزیراعلیٰ امیر حیدرہوتی نے کشتیوں کی خریداری کیلئے رقم فراہم کردی ہے۔ یہ کشتیاں کراچی سے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے منگوانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے ۔ متاثرین کوخیمے ، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور اس مقصد کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں ہماری تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے اپیل ہے کہ متاثرین سیلاب کوبچانے کیلئے ہر مسئلہ کو اولین ترجیح دی جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مجموعی طورپر ساٹھ کے قریب ہلاکتوں کی اطلاع ہے جبکہ رابطہ سڑکیں اور پل ٹوٹنے سے چار لاکھ کے قریب متاثرہ علاقوں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
